تحریر: سید انجم رضا
حوزه نیوز ایجنسی!
دنیا کی نظریں اکتوبر اور نومبر 2026 میں ہونے والے اسرائیل اور امریکہ کے انتخابات پر مرکوز ہیں۔ بظاہر یہ دونوں انتخابات اپنے اپنے ممالک کے داخلی سیاسی معاملات سے متعلق ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے نتائج کے اثرات اسرائیل کی سرحدوں سے کہیں آگے اور واشنگٹن کی داخلی سیاست سے کہیں وسیع ہوں گے۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب غزہ کی جنگ، فلسطینی مسئلہ، اسرائیلی حکومت کی جنگی پالیسی اور خطے میں طاقت کے توازن پر شدید بحث جاری ہے۔ اس کے فوراً بعد 3 نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں واشنگٹن کی آئندہ ترجیحات پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس اعتبار سے بھی غیر معمولی ہے کہ اسرائیلی انتخابات اور امریکی وسط مدتی انتخابات ایک ایسے مرحلے پر ہو رہے ہیں جب غزہ کا مستقبل، فلسطینیوں کے سیاسی و انسانی حقوق، اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اور خطے میں امریکی کردار پہلے ہی شدید سیاسی تنازع کا مرکز بن چکے ہیں۔ اسرائیل میں انتخابی مہم کے دوران غزہ اور فلسطینیوں سے متعلق سخت گیر مؤقف نمایاں ہے، جبکہ امریکہ میں اسرائیل کے لیے روایتی حمایت بھی داخلی سیاسی بحث کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔
لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل میں کون اقتدار میں آتا ہے یا امریکہ میں کون سی جماعت کانگریس میں برتری حاصل کرتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد غزہ کا مستقبل کیا ہوگا، فلسطین کے مسئلے پر امریکی پالیسی کس سمت جائے گی، اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی میں کیا تبدیلی آئے گی، اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا موجودہ توازن کس حد تک تبدیل ہوگا؟ یہی وہ سوالات ہیں جو ان انتخابات کو محض انتخابی عمل کے بجائے پورے خطے کے مستقبل کے لیے ایک اہم سیاسی موڑ بنا دیتے ہیں۔
جمہوری نظام میں انتخابات کسی بھی حکمران جماعت کے لیے عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عوام اگر حکمران جماعت کو دوبارہ منتخب کرتے ہیں تو اسے اس کی پالیسیوں کی تائید سمجھا جاتا ہے، جبکہ شکست اس بات کا اظہار ہوتی ہے کہ عوام نے گزشتہ دورِ حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کی جنگ اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج پر کس حد تک اثرانداز ہوگی؟
نیتن یاہو کے لیے جنگ کیوں اہم ہے؟
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کو غزہ کی جنگ سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہے۔ موجودہ حالات میں جنگ کا خاتمہ ان کی داخلی سیاسی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے خلاف قانونی مقدمات پہلے ہی موجود ہیں اور اقتدار سے باہر ہونے کی صورت میں انہیں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے یہ تاثر مضبوط ہے کہ نیتن یاہو کے لیے جنگ کا جاری رہنا سیاسی طور پر زیادہ فائدہ مند ہے۔ جنگی ماحول انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں قومی سلامتی، دفاع اور اسرائیلی مفادات کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ انتخابات کے قریب جنگ کی شدت اور اس کے سیاسی استعمال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں صورتحال کا ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے:
نیتن یاہو کے لیے جنگ جاری رکھنا سیاسی ضرورت بن سکتا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جنگ کا خاتمہ سیاسی ضرورت بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کے لیے جنگ ایک سیاسی بوجھ؟
امریکہ میں صورتحال اسرائیل سے قدرے مختلف ہے۔ اگر غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ امریکی عوام کے اندر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک منفی تاثر پیدا کرتی ہے تو جنگ کا تسلسل امریکی سیاست میں ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو بڑے عالمی تنازعات کو ختم کرنے اور امریکہ کو طویل جنگوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر جنگ مسلسل جاری رہتی ہے اور امریکی عوام کے سامنے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا تو یہ صورتحال ٹرمپ کے سیاسی بیانیے کے لیے مشکل پیدا کرسکتی ہے۔
یوں ایک طرف نیتن یاہو جنگ کے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہیں گے، جبکہ دوسری طرف ٹرمپ کے لیے جنگ کا خاتمہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسرائیل میں حکومت بدلے گی، پالیسی نہیں؟
اسرائیلی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حکومت یا شخصیات کی تبدیلی لازماً فلسطین کے بارے میں بنیادی پالیسی کی تبدیلی نہیں بنتی۔ اسرائیلی سیاسی نظام میں دائیں بازو، بائیں بازو اور انتہا پسند دائیں بازو کے مختلف دھڑوں کے درمیان داخلی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم فلسطین، غزہ اور اسرائیلی سلامتی کے بنیادی تصورات پر ان کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
اس لیے اگر انتخابات کے نتیجے میں نیتن یاہو کی جگہ کوئی دوسرا رہنما بھی آتا ہے تو یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ فلسطین یا غزہ کے معاملے پر اسرائیل کی بنیادی حکمتِ عملی یکسر تبدیل ہوجائے گی۔
شخصیات بدل سکتی ہیں، حکومتیں تبدیل ہوسکتی ہیں، پارلیمانی اتحاد ٹوٹ اور بن سکتے ہیں، لیکن فلسطین کے مسئلے پر اسرائیلی ریاست کی بنیادی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی سیاست میں اسرائیل کا مستقبل
امریکہ میں صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اسرائیل کے حوالے سے اختلافات ضرور موجود ہیں، تاہم اسرائیل کی بنیادی حمایت امریکی خارجہ پالیسی کا ایک دیرینہ عنصر ہے۔
البتہ غزہ کی جنگ نے امریکی معاشرے میں اسرائیل اور بالخصوص نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حوالے سے شدید سوالات پیدا کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سیاسی قیادت کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے بعض نسبتاً تنقیدی بیانات سامنے آتے ہیں۔
لیکن ان بیانات کو فوری طور پر امریکی اسرائیل پالیسی میں بنیادی تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی حمایت کی نوعیت، شدت اور طریقۂ کار میں تبدیلی آسکتی ہے۔
امریکی سیاست میں اسرائیل نواز لابی ایک مضبوط قوت ہے اور وہ دونوں بڑی جماعتوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے یہ توقع کرنا کہ صرف حکومت کی تبدیلی سے امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت ترک کرکے فلسطین کے حق میں کھڑا ہوجائے گا، ایک غیرحقیقی توقع ہوگی۔
کیا انتخابات آزادانہ طور پر عوامی رائے کا اظہار ہوں گے؟
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ان انتخابات میں فیصلہ کن کردار عوامی رائے ادا کرے گی یا طاقتور سیاسی لابیز، جنگی مفادات اور ریاستی ادارے نتائج پر اثرانداز ہوں گے۔
اسرائیل اور امریکہ دونوں میں مضبوط سیاسی ادارے اور فعال اپوزیشن موجود ہیں، اس لیے روایتی معنوں میں انتخابی عمل کو کسی تیسری دنیا کے ملک کی طرز پر مکمل طور پر حکمران جماعت کے کنٹرول میں قرار دینا آسان نہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابی سیاست صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ سیاسی فنڈنگ، میڈیا، لابیز، جنگی مفادات، معاشی قوت اور خارجہ پالیسی کے دباؤ بھی عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بالخصوص امریکہ میں ٹرمپ کے سیاسی انداز، ان کی سودے بازی کی حکمتِ عملی اور غیر روایتی سیاسی طرزِ عمل کے باعث انتخابات کے دوران غیر متوقع سیاسی اقدامات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انتخابات کے تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکی انتخابات کے بعد کم از کم تین ممکنہ منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔
پہلا منظرنامہ:
اگر ریپبلکن پارٹی کو نمایاں شکست ہوتی ہے تو ٹرمپ کے لیے جنگ جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ کانگریس اور سینیٹ میں سیاسی حمایت کم ہونے کی صورت میں جنگی اخراجات، ہتھیاروں کی فراہمی اور دیگر حکومتی اقدامات پر رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس صورت میں جنگ کی شدت میں کمی اور مذاکرات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
دوسرا منظرنامہ:
اگر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی دوبارہ مضبوط کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ امریکی عوام نے موجودہ پالیسیوں کو کم از کم انتخابی سطح پر مسترد نہیں کیا۔ ایسی صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے علاقائی اہداف کے حصول کے لیے مزید جارحانہ پالیسی اختیار کرنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
تیسرا منظرنامہ:
اگر انتخابات میں کوئی واضح سیاسی برتری سامنے نہ آئے اور طاقت کا توازن تقسیم رہتا ہے تو موجودہ صورتحال بڑی حد تک برقرار رہ سکتی ہے۔ جنگ، دباؤ، مذاکرات اور سیاسی کشمکش ایک ساتھ جاری رہیں گے۔
خطے کے لیے اصل سوال: جنگ یا امن؟
اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج کا سب سے اہم اثر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ انتخابات خطے کے تمام مسائل کا فیصلہ نہیں کریں گے۔
اسرائیل کی فلسطین کے بارے میں بنیادی پالیسی، امریکہ کی اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک وابستگی، ایران کے ساتھ کشیدگی، فلسطینی مسئلہ اور خطے میں طاقت کا توازن ایسے عوامل ہیں جو انتخابات سے کہیں زیادہ گہرے اور طویل المدت ہیں۔
اس لیے اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی بھی لازماً فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں ہوگی اور امریکہ میں سیاسی تبدیلی بھی لازماً اسرائیل کی حمایت کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گی۔
مزاحمتی تحریکیں اور انتخابات
مشرقِ وسطیٰ کی مزاحمتی تحریکوں کے مستقبل کو بھی صرف اسرائیل اور امریکہ کے انتخابی نتائج سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان تحریکوں کے وجود کے پیچھے مخصوص سیاسی، تاریخی اور علاقائی عوامل موجود ہیں۔
جب تک وہ بنیادی عوامل موجود رہیں گے، مزاحمتی تحریکوں کی سرگرمیاں بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہنے کا امکان رہے گا۔ ان کی شدت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، حکمتِ عملی تبدیل ہوسکتی ہے، بعض اوقات وہ دباؤ کے باعث پسِ پردہ جاسکتی ہیں اور پھر دوبارہ فعال ہوسکتی ہیں، لیکن محض کسی انتخابی نتیجے سے ان کا وجود ختم نہیں ہوگا۔
اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب فلسطین، اسرائیل، خطے کی سلامتی اور طاقت کے توازن سے متعلق بنیادی تنازعات کے کوئی قابلِ عمل سیاسی حل سامنے آئیں۔
انتخابات اہم ہیں، مگر فیصلہ کن نہیں
اسرائیل اور امریکہ کے آئندہ انتخابات یقیناً مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر اثرانداز ہوں گے، لیکن انہیں خطے کے مستقبل کا واحد فیصلہ کن عامل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو کے لیے جنگ کا سیاسی تسلسل اقتدار بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ کے لیے جنگ کا خاتمہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی ضرورت بن سکتا ہے۔ یہی تضاد آئندہ چند ہفتوں کی سیاست کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔
اسرائیل میں حکومت بدلنے کے باوجود فلسطین کے بارے میں بنیادی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود ہیں، جبکہ امریکہ میں سیاسی تبدیلی اسرائیل کی حمایت کی نوعیت کو متاثر کرسکتی ہے، مگر اس حمایت کے مکمل خاتمے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
بالآخر اصل سوال یہ نہیں کہ انتخابات میں کون جیتتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیاں جنگ کے تسلسل کو ترجیح دیتی ہیں یا خطے میں کسی حقیقی سیاسی حل کی طرف بڑھنے پر آمادہ ہوتی ہیں؟
اگر جنگ جاری رہتی ہے تو انتخابات صرف چہروں اور حکومتوں کو تبدیل کریں گے
لیکن اگر جنگ کے بنیادی اسباب اور خطے کے سیاسی تنازعات کے حل کی طرف پیش رفت شروع ہوتی ہے تو یہی انتخابات مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی مرحلے کا نقطۂ آغاز بھی بن سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ